Lahore اردو

بابو اِن شاہ عالمی

اندرونِ لاہور کی تنگ گلیوں میں پھنسی ایک گاڑی، شاہ عالمی بازار کی طرف ایک خاندانی سفر، اور ایک ذاتی ڈائری سے لی گئی یاد۔

یہ ایک ذاتی ڈائری سے لی گئی تحریر ہے، جسے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے سے نقل کیا گیا ہے۔ نستعلیق دستی خط کو پڑھنا بعض اوقات غیر یقینی ہوتا ہے، اس لیے چند الفاظ یا فقرے پوری یقین دہانی کے ساتھ نہیں پڑھے جا سکے — انہیں بریکٹ میں نشان زد کیا گیا ہے۔

اکثر افسران شاہی (سرکاری دربار کی نوکری کرتے ہوئے) کچھ عادتوں میں پختہ ہو جاتے ہیں۔ قارئین یہ خطا نہ سمجھیں کہ یہ دفعتاً بننے والی عادتیں جیسا سرسری افسانہ ہے، یہ اصل فسانہ ہے۔ نہ یہ عادتیں، عادتیں ہیں بلکہ ان ہی اقسام میں انہی موجود ہونی ہیں۔ آرام دہ کرسی، اے۔سی والا کمرہ اور الہ دین کے چراغ سے جا نکلے، جن سے زیادہ رفتار جیسا کچھ نہیں۔ یہ برمودا ٹرائینگل (Bermuda Triangle) ہے، جس میں یہ لوگ زندگی گزارتے ہیں۔ عموماً افسران عام لوگوں، عام جگہوں اور عام حالات سے اسی طرح پردہ کرتے رہتے ہیں جس طرح سولہویں صدی کی خواتین حضرات سے۔

ہمارے والد صاحب بھی الفاظ کے "محلہ بالا محمد برسودہ ٹرائل 25 سال" میں داخل ہوئے تھے، ابھی تک باہر نہیں نکل سکے۔ چونکہ ایک روز ہم نے انہیں اس برسودہ ٹرائل سے باہر نکالنے کی مہم پر شاہ عالمی بازار لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ اس رات ابا جان (نہ جانے کیوں) اس بات پر رضامند نہ ہوئے کہ ہم رکشے پر چڑھیں۔ اس وقت تو امی جان نے ان کی بات میں ہاں ملائی اور کہا کہ گاڑی پارک کر کے اسے رکشے پر چڑھا سکتے ہیں، اور یوں ہم گھر کی سب سے تیز رفتار کار لے کر شاہ عالمی کو روانہ ہو گئے۔

ہم سرکلر روڈ کے قریب پہنچے تو یہ سوچ رہے تھے کہ اپنی گاڑی کہاں پارک کریں۔ الغرض ابا جان نے سوچا کہ سوچنے میں وقت خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ سرکلر روڈ کے قریب گاڑی کھڑی کر کے آگے پیدل چلا جائے۔ انہوں نے کار پارک کرنے کے چند مناسب مقامات دکھائے، اور یہ کام بھی دلچسپ ثابت ہوا، اور یوں ہم بازاروں میں وارد ہوئے۔ چونکہ آج ہفتے کا دن تھا، اس لیے بازار میں رش کافی زیادہ تھا۔ اس ہجوم میں ہمارے والد کو ایک خستہ حال، بابا آدم کے زمانے کا رکشہ نظر آیا، اور ہم کار سمیت اس کی طرف لپکے۔ ابھی ہم کچھ منزلیں طے کر رہے تھے کہ ہمیں کوئی [بیماری/بے قراری — غیر واضح لفظ] محسوس ہوئی۔

والد صاحب نے سب سے پہلے [ہجوم میں گاڑی لے جانے پر خوف اور خدشہ محسوس کیا — غیر واضح فقرہ]، جیسے اوور برج کی طرف بڑھتی قطار کا خیال کر کے، اس ہجوم کے درمیان گاڑی چلانے کے پیش نظر رکھنے کو کہا، تو کچھ نہ ہوا۔ نہایت شفقت سے، ہمیں افہام و تفہیم سے سمجھاتے ہوئے، پیار سے کہا: "بیٹا، آج ہم نے سروے (survey) کر لیا ہے، اب اگلے سفر رکشے پر آئیں گے تو باقی دیکھ لیں گے۔" ہم نے ان کے چہرے کے تاثرات میں چھپی نشانی دیکھ کر کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمارا survey محض شروع ہوا ہے۔

ہم نے بلآخر آگے ایک دکان دار سے واپسی کا راستہ پوچھا۔ اس نے خاص لاہوری زبان میں کچھ اس طرح راستہ سمجھایا: "اگے ٹیکسالی آئے گا، اوکھوں کسی گاڑی ہو جانا اے، پھر تھوڑا سا پوچھنا اے فرقوں سے۔" یہ ہدایات تو ابا جان کو کچھ سمجھ آ گئیں، لیکن ایسی ہدایات تو حضرت خضر کو بھی [شاید] حیات باقی رکھتی ہیں — ہو نہ ہو کوئی ملتی تو ہم آج تک انہی کی تلاش میں ہوتے۔ خیر، ہم اسے شکریہ کہہ کر روانہ ہوئے۔

ابا جان نے اللہ کا نام لے کر گاڑی دوبارہ چلا دی، لیکن انہیں کہاں معلوم تھا کہ آگے کا راستہ دل کے صراط سے بھی کٹھن اور پیچیدہ ہے۔ ہم اندرون لاہور کی تنگ گلیوں میں داخل ہو گئے، جہاں گاڑی کا گزرنا محال تھا۔ اگر ہم اس سے پہلے بھی کبھی اندرون لاہور گئے ہوتے تو ہمیں معلوم ہوتا کہ خصوصاً یہاں گاڑی لے جانا کتنا مشکل ہے۔ ہماری کار اور اس کے آس پاس کی دکانیں، موٹر سائیکلیں اور رکشے — ان سب میں صرف ہماری کار [پھنس گئی/نکل نہ سکی]۔ اس دوران ہم نے کسی اور کار کا ذکر تک نہیں سنا، شاید اس لیے کہ اس دن کوئی اتنا بے پروا نہ تھا کہ کار میں بیٹھ کر ادھر نکلتا۔ حالات کچھ یوں تھے کہ گلی کافی چوڑی تھی، اور جتنی جگہ ملتی وہاں موٹر سائیکلوں کا رش ہوتا۔ اس سے کار کو تو دور کی بات، کسی کار کو دیوار سے ٹکرائے بغیر گزرنا بھی نصیب نہیں ہو رہا تھا۔

ایک ایسے ہی رش میں پھنسے ہوئے، اس ہجوم سے تنگ آ کر ابا جان نے ایک موٹر سائیکل والے سے نہ جانے کیا سوچ کر گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور کچھ پوچھا۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: "آگے تو بہت رش ہے۔" یہ سن کر ابا جان نے شکست خوردہ انداز میں پوچھا: "پھر کیا کریں؟" تو اس کی رگ شرارت پھڑکی، اور اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "کچھ بھی نہیں،" اور بس ہنس کر آگے چل دیا۔ ابا جان کا جواب تو وہیں نہ پا سکے، لیکن انشاءاللہ ان کے ذہن میں اس موقع کے لیے یہ شعر گونج رہا تھا:

نہ چھیڑ اے نکہتِ باد بہاری، راہ لگ اپنی تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

اس سب پر دکان دار اور راہ گیر ہمیں ترس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں کہ ایسی گاڑی لے کر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارے دائیں بائیں تنگ گلیوں کے ساتھ اندرون لاہور کی فلک بوس عمارتیں ہمارے سروں پر منڈلا رہی تھیں۔ ان کے درمیان ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے برج خلیفہ کا خواب دیکھتے دیکھتے آنکھ کھلی ہو اور ہم اندرون لاہور کے کسی اور ہی شہر میں آ نکلے ہوں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ دبئی کا برج خلیفہ اکیلا کھڑا ہے، جبکہ یہاں کئی ایسی فلک بوس عمارتیں ایک تنگ سی گلی کے دونوں جانب موجود تھیں۔ اور یہ گویا کافی نہ تھا کہ ان عمارتوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے بجلی کے تاروں کا جال سا بچھا دیا گیا تھا۔ ہم انہی تاروں اور بجلی کے کھمبوں کے سائے میں اپنی منزل کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔

اس ہجوم کو دیکھ کر ہماری کار بھی گویا شرما گئی، اور وہیں بیچ سڑک بالکل رک گئی، جیسے آگے بڑھنے سے انکار کر رہی ہو۔ ہم بیٹھے یہی سوچتے رہے کہ نہ جانے یہ رش کب ختم ہو گا، اور بالآخر ہم نے پھر اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔

کچھ دیر بعد ہم اس ہجوم سے نکل ہی آئے، گویا کسی فرشتے نے خلقت میں سے راستہ نکال دیا ہو۔ اسی اثنا میں ایک لڑکے نے زور سے آواز لگائی: "گاڑی کا لونٹ کھلو!" — ایسے جیسے یاد دلا رہا ہو کہ ایسی سڑک کے بیچوں بیچ رک جانا کسی شاہی سواری کو بھی زیب نہیں دیتا۔ اس سرزنش کے بعد ابا جان نے دل بڑا کر کے اس سے راستے کا سوال کیا، تو اس نے اپنی [رہنمائی/امداد] کا پیغام دیا اور ہمیں گاڑی سمیت اندرون لاہور کی گلیوں سے رہائی دلوائی۔

جب ابا جان کو مال روڈ اور بادشاہی مسجد کی جھلک دکھائی دی تو ان کے چہرے پر ایک سکون سا دوڑ گیا۔ اور ان کی آنکھیں دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ آج تک شاید ہی کسی نے مال روڈ اور بادشاہی مسجد کو دیکھ کر اتنی خوشی محسوس کی ہو گی۔ ورنہ مال روڈ کا رش تو ابا جان کے لیے روز کی جھنجھلاہٹ اور کوفت کا باعث بنتا تھا، مگر اس دن یہی رش ہمارے لیے خوشی کا باعث بن گیا تھا۔

ملک / خطے
شہر / مقامات
جغرافیہ / پانی
ماحولیات
برادریاں
ادارے / تحریکیں
موضوعاتی عنوانات
شمارے / سلسلے
اصناف
مہمات

گفتگو

تبصرہ کرنے سے پہلے ہماری اجتماعی گفتگو کی رہنما اصول پڑھ لیں۔ رہنما اصول.